ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کسانوں کی حمایت میں ممبئی میں کانگریس کی ٹریکٹر ریلی 

کسانوں کی حمایت میں ممبئی میں کانگریس کی ٹریکٹر ریلی 

Sat, 13 Feb 2021 12:38:51    S.O. News Service

ممبئی، 13؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) کسان مخالف زرعی قوانین کے خلاف اور کسانوں کے احتجاج کی حمایت میں جمعہ کو ممبئی میں کانگریس پارٹی کی جانب سے ٹریکٹر ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ریلی مہاراشٹر ا پردیش کانگریس کمیٹی ( ایم پی سی سی ) کے نو منتخب صدر نانا پٹولے کی باقائدہ  تقرری کے موقع پر نکالی گئی۔ ودھان بھون سے گر گاؤں  چوپاٹی  تک نکالی گئی ٹریکٹر ریلی کے بعد کانگریس کے لیڈروں کی ایک میٹنگ بھی منعقد کی گئی جس میں ’مودی سرکار چلے جاؤ‘ کی تجویز منظور کی گئی ۔ 

ٹریکٹر ریلی میں نا نا پٹولے کے ساتھ کانگریس کے ممبئی صدر بھائی جگتاپ، اراکین اسمبلی امین پٹیل ، ذیشان صدیقی ، پرنیتی شندے کے علاوہ سابق رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان اور دیگر لیڈر موجود تھے۔ 

اس سلسلے میں ٹریکٹر ریلی میں شریک رکن اسمبلی امین پٹیل سے رابطہ قائم کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ’’ جمعہ کو ایم  پی سی سی کے نئے صدر نانا پٹولے کی باقائدہ تقرری کی گئی ہے اور اسی موقع پر ان کی صدارت میں اس ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا۔ یہ ریلی ودھان بھون سے گرگاؤں چوپاٹی  تک نکالی گئی تھی۔‘‘ 

واضح رہے کہ نانا پٹولے کسانوں کے لیڈر بھی مانے جاتے ہیں ریلی نکالنے کے مقصد کے تعلق سے رکن اسمبلی ذیشان صدیقی نے کہا کہ ’’مرکزی حکومت کی جانب سے زرعی قوانین کسانوں کے خلاف بنائے گئے ہیں ۔ اسی لئے گزشتہ تقریباً 3؍ ماہ سے کسان دہلی بارڈر پر احتجاج  کررہے ہیں۔ ان کسانوں کی حمایت اور زرعی قانون کی مخالفت میں ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ 

’مودی سرکار چلے جاؤ‘ کانگریس لیڈڑوں کی میٹنگ میں تجویز منظور :  جمعہ کو مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے لیڈروں کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ’مودی سرکار چلے جاؤ،‘ کی تجویز قرار داد کی گئی ہے۔ مہاراشٹر کانگریس کے نئے صدر نانا پٹولے کی صدارت میں منعقد ہ میٹنگ تیج پال ہال میں ہوئی تھی۔ اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ مرکز کی مودی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد جمہوری ، آئینی اور پارلیمانی روایتوں کو پیروں تلے روندے ہوئے تانا شاہی کے طرز پر کام کاج کر رہی ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد نریندر مودی کی حکومت عوام کو نظر انداز کرتے ہوئے  صنعتکاروں کیلئے کام کررہی ہے۔ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی اور غیر منظّم طریقے اور پہلے سے کسی طرح کی تیاری کے بغیر لاک ڈاؤن سے ملک معاشی مندی کا شکار ہے اور کروڑو ں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔ 
 کسانوں کے مخالف 3 ؍ زرعی سیاہ قوانین منظور کرنے کے سبب ملک کے انیہ داتا (کسان) شدید پر یشان ہیں اور کڑاکے کی سردی کے باوجود انہوں نے بی جے پی حکومت کے خلاف دہلی بارڈر پر گزشتہ تقریباً 3؍ ماہ سے احتجاج جاری رکھا ہے۔ ان احتجاج میں اب تک 200 ؍ کسان شہید بھی ہو چکے ہیں اس کے باوجود انہیں خالصتانی ، نکسل وادی اور دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے۔ 

لیٹر میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ گزشتہ 6؍ برسوں میں مرکزی کی بی جے پی حکومت نے سماج کے سبھی  طبقوں پر ظلم ہی کیا ہے اور اسی لئے اس ظالم حکومت کو اقتدار پر رہنے کا کوئی حق نہیں ۔ لہٰذا اس میٹنگ میں ’مودی سرکار چلے جاؤ‘ کی تجویز منظور کی گئی ہے۔ مذکورہ تجویز  نانا پٹولے کے علاوہ بالا صاحب  تھوراٹ ، ایچ کے پاٹل ، سشیل کمار شندے اور پرتھوی راج چوہان کے دستخط کے ساتھ منظور کر لی گئی ہے۔ 


Share: